سوال
اس کی شوہر نے قسم کھائی کہ وہ عید کے وقت اپنے اہل خانہ کو تحفہ نہیں لانے دے گا، لیکن وہ لوگ آئے اور تحفہ بھی ساتھ لائے، تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟ اور بعد میں اس نے کہا کہ اس کا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا، کیا یہ قسم سمجھی جائے گی اور اس کا کفارہ دینا ہوگا؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر طلاق کا وقوع کسی چیز پر معلق ہو تو طلاق اس وقت واقع ہوگی جب معلق شدہ چیز پوری ہو جائے، لیکن اس کے باوجود اس کو مفتی سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ صورت حال کی تصدیق ہو سکے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔