سوال
بڑے جھگڑے کے بعد، شوہر نے اپنی بیوی سے کہا: «اگر تم اپنی ماں کے گھر گئی یا تمہاری ماں تمہیں ملنے آئی، تو تم طلاق ہو»، اور بیوی اپنی ماں کے گھر نہیں گئی، اور اس کی ماں بھی اسے ملنے نہیں آئی، اور ایک سال گزر گیا، اور اب شوہر بہت پچھتا رہا ہے، اسے کیا کرنا چاہیے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے، اگر شوہر چاہتا ہے کہ وہ اب مثلاً نہ جائے یا کچھ مدت تک نہ جائے، تو اس کی خواہش پوری ہو گئی ہے کہ وہ ایک سال سے نہیں گئی، تو اگر وہ اب جائے تو طلاق واقع نہیں ہوگی، اور اگر وہ چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اور مطلقاً نہ جائے، تو اس پر طلاق واقع ہوگی، اور شوہر کو چاہیے کہ وہ براہ راست مفتی سے رجوع کرے؛ تاکہ صورت حال کو سمجھ کر اس کی فتویٰ حاصل کرے، اور اپنے حال کے مطابق ایک منضبط جواب لے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.