سوال
ایک خاتون جو آٹھ سال سے شادی شدہ ہیں، ان کے دو بچے ہیں اور وہ چھٹے مہینے میں حاملہ ہیں، ان کے شوہر روزانہ اپنی ازدواجی حقوق کی ادائیگی چاہتے ہیں، اور وہ تھکن اور ذمہ داری کے بوجھ کا احساس کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے اختلافات پیدا ہوئے ہیں اور ان پر کوتاہی کا الزام لگایا جا رہا ہے، وہ طلاق چاہتی ہیں تاکہ ان کا شوہر دوسری شادی کر سکے اور اپنی خواہشات کو پورا کر سکے، کیا ممکن ہے کہ وہ ان تفصیلات کا ذکر کیے بغیر جج سے طلاق کی درخواست کریں تاکہ شوہر کی نجی زندگی محفوظ رہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ طلاق اور خاندانوں اور بچوں کی علیحدگی کی درخواست کے لئے ایک معقول عذر نہیں ہو سکتا، اور آپ پر واجب ہے کہ آپ شوہر کی ضرورت کو پورا کریں اور اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں سمجھیں یا انہیں دوسری شادی کی ترغیب دیں، لیکن آپ کے لئے طلاق کے راستے پر چلنا مناسب نہیں ہے؛ کیونکہ اس کا نتیجہ آپ کے لئے بھاری ہوگا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔