سوال
ایک خاتون نے عدالت میں طلاق کا دعویٰ دائر کیا ہے کہ ان کی طلاق تین بار ہو چکی ہے لیکن ان کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے، اور جج نے دعویٰ مسترد کر دیا ہے، تو انہیں کیا کرنا چاہیے، اور کیا طلاق ظاہری اور باطنی طور پر ثابت ہوتی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر قاضی نے دعویٰ کو مسترد کر دیا اور آپ اسے ثابت نہیں کر سکیں، تو قاضی کا فیصلہ ظاہری اور باطنی طور پر لازمی ہوگا، اور وہ اپنے شوہر کے لیے بیوی رہیں گی، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔