طلاق معلق کی نیت

سوال
ایک عورت کا شوہر اپنی شادی کے بعد سے بار بار طلاق کی قسمیں کھاتا ہے، اور ایک بار اس نے واضح الفاظ میں کہا "تم طلاق ہو"، لیکن باقی قسمیں شرط کے ساتھ معلق ہیں، جیسے: اگر تمہارا بھائی گھر میں داخل ہوا تو تم طلاق ہو، اور وہ داخل ہوا، اور اسی طرح، وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ طلاق کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اسے قسم سمجھتا ہے، لیکن اب وہ کوشش کر رہی ہے کہ ان کے درمیان کوئی تعلق نہ ہو، اور اسے خوف ہے کہ اگر وہ خود کو اس سے روکے گی تو وہ ناشز ہو جائے گی، ان کے تعلق کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: معلق طلاق شرط کے وجود کے بعد بھی واقع ہوتی ہے، لہذا آپ کو مفتی سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں