سوال
کیا حکم ہے اس شخص کا جو اپنی بیوی پر قسم کھاتا ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ سے ملنے نہیں جائے گی اور ان کے پاس رات نہیں گزارے گی، حالانکہ کبھی کبھار ان کے پاس تقریبات ہوتی ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ وہ اپنی بہنوں کی طرح وہاں سو سکے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: معلق طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے جب شرط پوری ہو جائے، اگر وہ اپنے گھر والوں کے پاس گئی یا ان کے ساتھ رات گزارے تو طلاق واقع ہو جائے گی، اور اس پر واجب ہے کہ وہ مفتی سے رجوع کرے تاکہ اس کی صورت حال کی تصدیق کر سکے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔