طلاق اور وفات کی عدت میں فرق کی حکمت

سوال
اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا: "اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین قروء تک روکے رکھیں گی"، اور اسی سورۃ میں ایک اور آیت میں فرمایا: "اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنی بیویوں کو چھوڑ جائیں، وہ اپنی ذات کو چار مہینے اور دس دن تک روکے رکھیں گی"، تو اگر اس کی حکمت رحم کی پاکیزگی کو یقینی بنانا ہے تو پھر مدت میں کیوں فرق ہے، براہ کرم وضاحت کریں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ ایک عبادتی معاملہ ہے جیسے نماز میں رکعات کی تعداد، لہذا ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کرنا واجب ہے، ورنہ رحم کی براءت ایک حیض سے ہی حاصل ہوتی ہے، تین سے نہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں