سوال
اس عورت کا کیا حکم ہے جو نفل روزے رکھتی ہے، نماز پڑھتی ہے، قرآن کے دروس میں شرکت کرتی ہے اور حفظ کرتی ہے، اور پھر شوہروں اور لوگوں کے گھروں میں ایسی باتوں میں مداخلت کرتی ہے جو اس کا کام نہیں ہیں اور انہیں خراب کرتی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس طرح کے تصرفات اس پر حرام ہیں اور ہمیں اس کی اصلاح کے لیے مسلسل نصیحت کرنی چاہیے، اور اصل یہ ہے کہ جو شخص نفل پڑھتا ہے، دروس میں حاضر ہوتا ہے اور قرآن پڑھتا ہے، اس کے اعمال اور اخلاق میں اس کا اثر ظاہر ہونا چاہیے، لہذا اسے اپنے مسلمان بھائی کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.