سوال
میرے شوہر کی بہن کچھ عرصہ پہلے وفات پا گئی، اور انہوں نے ہمارے ساتھ تقریباً 1400 شیکل چھوڑے، جن میں سے کچھ رقم تعزیت اور قبر کے لوازمات پر خرچ کی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ باقی ماندہ 650 شیکل ہم ان کی بہنوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟ کیونکہ وہ اس رقم کو ان کی روح کے لیے ضرورت مندوں میں دینا چاہتی ہیں، اور ان کی بہنیں بہت ضرورت مند ہیں اور وہ اس کی زیادہ حق دار ہیں، آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ مال اس کا وراثت شمار ہوتا ہے جو اس کے ورثاء لیتے ہیں، سوائے اس کے کہ اگر وہ اسے غریبوں میں تقسیم کرنے کی خواہش کریں تو یہ جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔