سوال
ایک خاتون کا شوہر ایک رقم جمع کر رہا ہے تاکہ تجارتی دکان خرید سکے، اور وہ اس پر زکات نکالنے سے انکار کرتا ہے، کیا وہ اس رقم کی زکات گھر کے خرچ سے نکال سکتی ہے جو وہ اسے فقیر لوگوں کو چند قسطوں میں دینے کے لیے دیتی ہے، بغیر اس کی اطلاع کے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: زکات صرف مال کے مالک کی طرف سے ہی صحیح ہے، اور اس میں مالک کی نیت ضروری ہے، لہذا یہ کافی نہیں ہے کہ اس کی طرف سے ادا کی جائے، چاہے وہ گھر کے خرچ سے ہو، اور گھر کے خرچ سے باہر کسی چیز میں تصرف کرنا اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.