سوال
ایک خاتون نے نقد رقم کے بجائے سونے کو بچت کے لیے خریدنے کو ترجیح دی، لیکن اب اس کے پاس سونے کی زکات نکالنے کے لیے کوئی اور مال نہیں ہے سوائے اس کے کہ اسے اس کا کچھ حصہ بیچنا پڑے، تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس پر لازم ہے کہ وہ سونے کا ایک حصہ بیچے اور اس پر زکوة دے اگر اس کے پاس کوئی اور مال نہ ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔