سوال
فقہ میں سونے کی قسطوں پر فروخت کو اس کی قیمت میں اضافے کے ساتھ منع کیا گیا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سونا اور نقد ایک ہی چیز ہیں، تو پھر ہم آج سونا ایک ہزار دینار میں کیوں خریدتے ہیں، پھر کچھ عرصے بعد ہمیں اسے زیادہ یا کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، کیا یہ پہلی قاعدے کے مطابق سود نہیں ہے؟ پھر کیا اس دور میں سونا اور نقد ایک ہی ہیں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: پہلی قاعدے کا آپ کے کہے سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ کیونکہ جب اس کی قیمت کچھ عرصے بعد تبدیل ہو گئی تو نئے معاہدے کے مطابق نئی قیمت پر اس کی فروخت جائز ہے، اور ایک ہی معاہدے میں شرعی ممانعت ہے؛ کیونکہ مجلس میں برابری اور قبضہ ضروری ہے، اسی طرح احادیث میں آیا ہے، اور سونا اور نقد دونوں کو قیمتوں کی جنس سمجھا جاتا ہے، لہذا اس کا حکم بھی وہی ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔