سوال
ایک خاتون نے اپنے بھائی سے تین سال پہلے تین سونے کے سکّے قرض لئے تھے، اور اب وہ یہ سکّے واپس کرنا چاہتی ہیں، لیکن چونکہ سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، اس لئے سکّوں کی قیمت زیادہ ہوگی، کیا یہ اضافہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اضافہ کی مقدار کو سود نہیں سمجھا جاتا؛ کیونکہ اس پر واجب ہے کہ وہ جو کچھ لیا ہے اسے واپس کرے چاہے اس کی قیمت بڑھ گئی ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔