سوال
ایک آدمی جس کا نام یوسف ہے، اس کے پاس زیتون کا باغ ہے، اس نے فادی سے کہا کہ مجھے ۴۰۰ دینار دو، اور میں زیتون کے موسم میں تمہیں اس کے بدلے ۸ ڈبے زیتون کا تیل دوں گا، کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ سلم کی خرید و فروخت ہے، اور یہ شرعاً صحیح ہے، اور فادی پر لازم ہے کہ وہ مجلس میں رقم ادا کرے تاکہ معاہدہ فاسد نہ ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔