زکات کے وکیل کا حکم اگر وہ زکات کے مال میں سے لے کر خرچ کرے

سوال
آپ نے فرمایا کہ اگر وکیل زکات کو مستحقین تک پہنچانے میں ناکام ہو جائے، اور اگر وہ خود فقیر ہو تو یہ خیانت ہے، کیا اس طرح زکات دینے والے نے اپنی ذمہ داری پوری کر لی اور اس کی ذمہ داری ختم ہو گئی؟ اور اس فقیر وکیل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے جب اس نے زکات لی اور خرچ کی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: غریب کو اس کا بدل غریبوں کو دینا چاہیے، اور زکات دینے والا زکات کا دافع شمار ہوتا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں