سوال
کیا زکات اپنے بھائی کو دی جا سکتی ہے جو کام نہیں کرتا اور اس کے بچے اسکول میں ہیں، یا اپنے بچوں کی یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے؟ کیا یہ والدین کو پانی اور بجلی کے خرچ کے لیے دی جا سکتی ہے جو ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں؟ کیا یہ ایک دوست کو تحفے کے طور پر دی جا سکتی ہے تاکہ شرمندگی سے بچا جا سکے، جبکہ اس کا ارادہ زکات دینے کا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: بہن بھائیوں کو زکوة دینا مستحب ہے، اور والدین کو دینا جائز نہیں ہے، اور دوست کو تحفے کے طور پر دینا جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.