سوال
بیوی کے خاندان کے پاس ایک گھر ہے، اور شوہر کے پاس بھی بینک کے قرضوں کے ذریعے ایک اور گھر ہے، اور ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ ان قرضوں پر جاتا ہے، علاوہ ازیں تعلیم اور یونیورسٹیوں کی اقساط بھی ہیں، اور ان کے پاس ایک وراثتی زمین کا ٹکڑا بھی ہے، تو کیا ان پر زکات واجب ہے؟ یہ جانتے ہوئے کہ وہ تنگ دستی کی شکایت کر رہے ہیں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: زکات اس شخص کے لیے صحیح ہے جو اپنی بنیادی ضروریات جیسے گھر، گاڑی، فرنیچر وغیرہ سے زائد کوئی چیز نہیں رکھتا، اور نصاب کی مقدار (100) گرام سونے کے برابر ہے، چاہے وہ دوسری گاڑی، دوسری اپارٹمنٹ یا زمین ہو، اور اگر وہ زمین کے مالک ہیں، تو وہ فقیر نہیں سمجھے جائیں گے، لہذا ان کو زکات دینا صحیح نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔