زکات کا حکم بھائی کے لیے

سوال
میرے ایک بھائی ہیں جن کی تنخواہ صرف 397 دینار ہے، وہ جلد ریٹائرمنٹ کے تحت ہیں اور یہ ان کی واحد آمدنی ہے، ان کی ایک بیوی اور چار بیٹیاں ہیں، بڑی بیٹی یونیورسٹی میں ہے، اور رہائش ان کی اپنی ہے، کیا میرے لیے اپنی زکات کا کچھ حصہ ان کے لیے نکالنا جائز ہے؟
جواب

میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر بھائی فقیر ہو اور اس کے پاس نصاب کی قیمت نہیں ہے، جو کہ 100 گرام سونے کے برابر ہے، اور اس کی بنیادی ضروریات جیسے رہائش، کھانا، لباس اور گاڑی سے زائد ہو، تو زکات دینا جائز ہے۔ آپ کو دو اجر ملیں گے: ایک زکات کا اجر اور دوسرا اس کی مدد کرنے کا اجر، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔

imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں