سوال
ایک شخص جو بڑے تاجروں میں سے تھا، اس کی حالت خراب ہوگئی اور وہ ناکام ہوگیا، اس پر چار لاکھ اردنی دینار کا قرض تھا، پھر وہ اردن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک چلا گیا، اور وہاں کام کرتا ہے، اور ہر ماہ تقریباً ایک ہزار سے دو ہزار دینار حاصل کرتا ہے، وہ اس رقم کو جمع کرتا ہے تاکہ سال میں دس سے پندرہ ہزار دینار جمع کر کے آہستہ آہستہ اپنے قرض کی ادائیگی کر سکے، تو کیا اس سال میں جمع ہونے والی رقم «دس ہزار سے پندرہ ہزار» پر زکات واجب ہے، حالانکہ وہ یہ رقم قرض دہندگان کو آہستہ آہستہ بھیجنے کے لیے جمع کر رہا ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: زکات اس پر واجب نہیں ہے جس کے پاس اپنے دین کا پورا مال ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔