سوال
میرے بیٹے کے پاس ترکی میں ایک دکان ہے اور ہم ہر رمضان دکان کی مالیت پر زکات نکالتے ہیں، میرے بیٹے نے پہلے رمضان میں دو ہزار ترک لیرہ بغیر نیت کے صدقہ دیا، اور دکان کی زکات ایک ہزار ترک لیرہ ہے، اور میں یہاں ادلب میں بھی (600) ترک لیرہ تقسیم کر چکا ہوں، اور میرا بیٹا نیت کرنا بھول جاتا ہے، اور دکان میرے اور میرے بیٹے کی شراکت ہے، تو کیا ہم نے اس طرح زکات ادا کر دی؟ ظاہر ہے کہ دکان اس کی ملکیت نہیں بلکہ کرایہ پر ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: زکات بغیر نیت کے کافی نہیں ہے؛ کیونکہ یہ عبادت ہے، اور آپ کو دکان کے لیے زکات نیت کے ساتھ دینا ہوگی، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔