سوال
ایسے لوگ ہیں جو تاریخی ورثے کی چیزوں کا کاروبار کرتے ہیں، اور ان کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے، لیکن یہ معلوم ہے کہ ایسی چیزیں فوراً نہیں بیچی جاتیں، اور بیچنے والے کے پاس کئی سالوں تک رہ سکتی ہیں اور کوئی خریدار نہیں ملتا، تو ایسی چیزوں کی زکات کیسے دی جائے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر یہ تجارت کے لیے پیش کی گئی ہیں تو یہ تجارتی اشیاء ہیں اگر اس نے انہیں بیچنے کے ارادے سے حاصل کیا ہے، اور ہر سال ان کی قیمت کے مطابق زکات دینا واجب ہے چاہے یہ اس کے پاس کئی سال تک رہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔