زکاتِ انعام اور اسے اولاد اور بھائیوں کو دینا

سوال
ایک ملازم نے اپنے ادارے کے بچت فنڈ سے ایک مالی انعام وصول کیا: أ - کیا اس پر اس رقم پر زکات واجب ہے، یا اسے وصول کرنے کے بعد کچھ وقت گزرنے کا انتظار کرنا چاہیے؟ ب - کیا وہ اپنی شادی شدہ بیٹی کو زکات دے سکتا ہے، جس کا شوہر کم آمدنی والا ہے، اور کیا اسے غریبوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، اور اس کے شوہر کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے؟ ج - کیا وہ اپنی شادی شدہ بھائی کو زکات کا کچھ حصہ دے سکتا ہے، جس کی آمدنی کم ہے، اور کیا اسے غریبوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، اور اس کی مدد زکات سے کیسے کی جا سکتی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد کے ساتھ: بچت کے صندوقوں کے پیسے قبضے کے بعد زکوة واجب ہے، اور بیٹوں اور بیٹیوں کو دینا جائز نہیں ہے، اور ان کے غریب شوہروں کو دینا جائز ہے، اور اگر بہنیں اور بھائی غریب ہوں تو انہیں دینا بھی جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں