سوال
ایک انسان جو تاجر نہیں ہے، نے زمین خریدی ہے تاکہ اسے قیمت بڑھنے پر بیچ سکے، اور اس کے پاس درج ذیل سوالات ہیں: - اگر اس پر ایک سال گزر جائے تو کیا وہ اس کی قیمت کے تخمینے کی بنیاد پر زکات دے گا یا اس کی پرانی قیمت کی بنیاد پر؟ اور وہ اپنی نئی قیمت کا اندازہ کیسے لگائے؟ - اگر اس کی نیت بعد میں تبدیل ہو جائے اور وہ زمین کو تعمیر یا زراعت کے مقاصد کے لیے رکھنا چاہے تو کیا زکات کا حکم تبدیل ہو جائے گا یا یہ اس کی پہلی نیت پر ہی رہے گا؟ - اگر اس نے زمین کو اس نیت سے خریدا کہ اسے بیچ کر دوسری زمین خریدے جو تعمیر کے لیے قریب اور مناسب ہو، نہ کہ نفع کمانے کے لیے، تو کیا اس پر بھی ایک سال گزرنے کے بعد زکات واجب ہوگی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: زکات ان لوگوں پر واجب ہے جو خریداری کرتے ہیں تاکہ بیچ سکیں جیسے کہ تاجر، اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ اس کی خریداری میں درست ہے، لہذا اس پر زکات واجب نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔