سوال
کیا زبانی ذکر کے بغیر تسبیح شمار ہوتی ہے، یا کیا زبان کو ہلانا ضروری ہے؟ اگر یہ جائز ہے تو یہ کیسے ہوگا؟ اور یہ معلوم ہے کہ دل میں سوچنا جیسے غیبت اور بدگوئی چھپ کر کرنا، اس پر نہ تو گناہ ہے اور نہ ہی ثواب؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ذکر کا مقام دل ہے، اور زبان اس کی حصول میں مدد کرتی ہے، لہذا ذکر کے صحیح ہونے کے لیے زبان سے ادا کرنا شرط نہیں ہے، جبکہ غیبت، گالیوں اور دیگر چیزوں کا مقام زبان ہے، لہذا ان کے بغیر یہ حقیقت نہیں پاتی، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔