زانی کی توبہ کا حکم ہمارے اس دور میں

سوال
کیا زانی محصن کی توبہ قبول کی جائے گی، اگر کسی کو اس کے فعل کا علم نہ ہو، اور وہ توبہ کر لے، نادم ہو جائے اور اللہ کی طرف رجوع کرے، اور اس پر حد نہ لگائی جائے؟ تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زانی پر حد لگائی جاتی تھی چاہے وہ توبہ کر لے، کیا اس پر اپنی غلطی کا بتانا لازم ہے، اور اس پر حد لگائی جائے گی، یا اسے اپنی غلطی چھپانی چاہیے اور سچی توبہ کافی ہوگی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی کو نہ بتائے، اور اللہ کی طرف سچی توبہ کرے کہ وہ دوبارہ نہ لوٹے، اپنے فعل پر نادم ہو، اور اللہ سے معافی مانگتا رہے اور صدقہ دیتا رہے یہاں تک کہ اللہ اس سے درگزر فرمائے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں