سوال
ایک لڑکی جب سے بالغ ہوئی ہے، وہ رمضان کے مہینے میں افطار کرتی ہے، اور اس نے جو دن چھوڑے ہیں ان کی قضا نہیں کی، اور اب اس کی عمر 41 سال ہے، اور اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کتنے دنوں کی قضا کرنی ہے؟ وہ دن کیسے قضا کرے، اور کیا اس پر صرف روزے کی قضا ہے یا اس کے علاوہ فدیہ بھی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس پر لازم ہے کہ وہ ان دنوں کی تعداد کا اندازہ لگائے جن میں اس نے روزہ توڑا، پھر اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان کا قضا کرنے کی کوشش کرے، اور اس پر کفارہ لازم ہے، جو کہ جان بوجھ کر افطار کرنے کی وجہ سے دو مسلسل مہینے روزہ رکھنا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔