سوال
ایک شخص ہے جس کی عمر (٢٠) سال ہے اور وہ ہر رمضان میں کم از کم (٣) دن جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے افطار کرتا ہے، چاہے جماع کے ذریعے ہو یا دھوئیں کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے، تو کیا اس پر (٢٠) بار روزہ رکھنے کا کفارہ ہے یا اس پر کیا واجب ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس پر لازم ہے کہ وہ ہر افطار کا قضا کرے، اور اس کے لیے ایک کفارہ ادا کرنا ہوگا جو کہ دو مسلسل مہینے روزہ رکھنا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔