نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
کیا مغرب سے لے کر 21 رمضان کی صبح 2 بجے تک کی عبادت کی رات شمار کی جا سکتی ہے جس میں نماز، قرآن کی تلاوت، ذکر اور دعا شامل ہوں، یا یہ ضروری ہے کہ پوری رات تہجد پڑھی جائے یہاں تک کہ فجر ہو؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: رات کے ایک حصے کا قیام فضیلت رکھتا ہے، لیکن پوری رات کا قیام حقیقی قیام ہے، اور اس میں شک نہیں کہ اس کا اجر زیادہ اور بڑا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔