سوال
ایک بھیڑ کا تاجر بھیڑیں خریدتا ہے تاکہ انہیں گوشت کے طور پر فروخت کرے۔ آپ بھیڑ کا انتخاب کرتے ہیں، پھر وہ اسے ذبح کرتا ہے، پھر اس کی کھال اتار دیتا ہے، پھر اس کے اندرونی اعضاء نکالتا ہے، پھر اسے تولتا ہے اور پوری بھیڑ کو 70 روپے فی کلوگرام گوشت کے حساب سے بیچتا ہے، اور آپ کو چربی اور معدہ بغیر کسی قیمت کے دیتا ہے۔ الف) کیا یہ معاملہ حنفی مکتب فکر میں جائز ہے؟ ب) کیا اس طریقہ سے خریدی گئی قربانی جو شرائط عمر اور عیب سے پاک ہونے کی پوری کرتی ہے، خریدنا جائز ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ فروخت جائز ہے اگر یہ عام ہو اور لوگ اس میں جھگڑ نہ رہے ہوں، اور اس میں قربانی کے حکم میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔