سوال
ایک خاتون لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہیں، ان کے پاس ایک ضرورت مند خاندان کی حالت ہے، جن کے پاس ایک فریج ہے جس کی کئی بار مرمت کی جا چکی ہے، اور اس خاتون نے نیک لوگوں سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے قسطوں پر ایک فریج خریدیں۔ یہ خاتون کافی عرصے سے تجارت کر رہی ہیں، تو کیا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ خود فریج خریدیں اور ضرورت مند خاندان کو قسطوں پر بیچیں، اور ظاہر ہے کہ قسطیں وہ خود لیں، یا پھر انہیں بغیر سود کے قرض حسن کے صندوق سے قرض لینا چاہیے، اور قسطیں اس صندوق کو ادا کرنی چاہیے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر یہ ممکن ہو کہ وہ خود اس معاملے کو سنبھالے، یعنی ریفریجریٹر خرید کر پھر اس کی قسطیں ادا کرے، تو یہ بہتر ہے، تاکہ لاگت کم اور آسان ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔