سوال
ایک مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں ایک لڑکی کی خطبہ ہوئی، اور ایجاب و قبول اور فاتحہ پڑھی گئی، کیا یہ شادی سمجھا جائے گا؟ اور اگر دونوں میں اختلاف ہو تو اس پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا اس سے مکمل طلاق لازم آتی ہے؟ کیا وہ وفات کی صورت میں وراثت پائے گی؟ کیا اس سے نفقہ اور معجل و مؤجل مہر لازم آتا ہے، حالانکہ شادی کو شرعی عدالت میں تصدیق نہیں کی گئی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: کسی معاہدے کو معاشرتی عرف میں اس وقت تک معاہدہ نہیں سمجھا جاتا جب تک کہ اسے عدالت میں تصدیق نہ کرایا جائے، اس سے پہلے کی تمام چیزیں جیسے کہ پیشکش، قبولیت اور نکاح کی ابتدا، رضا مندی کی نشانی ہیں نہ کہ معاہدے کی، اس لیے عورت اپنے خواستگار کے سامنے نہیں آ سکتی اور نہ ہی اس کے ساتھ اکیلی ہو سکتی ہے، اور اگر دونوں میں اختلاف ہو جائے تو یہ طلاق نہیں ہوگی، اور اللہ بہتر جانتا ہے.