سوال
ایک آدمی غصے میں تھا، اور اس کا پیٹ درد کر رہا تھا، اور اس کی بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا، تو اس نے قسم کھائی کہ "علیّ الحرام" اگر میں نے پرواز کھولی تو میں تمہیں تمہارے گھر بھیج دوں گا بغیر واپسی کے، اور آدھے گھنٹے بعد وہ صلح کر لیتے ہیں، تو اس پر کیا اثر پڑتا ہے، کیا یہ طلاق ہے یا اس پر قسم کا کفارہ ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر علیّ الحرام کے ذریعے طلاق کا مقصد ان کے عرف میں طلاق ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی، اور اگر طلاق کا مقصد نہ ہو تو یہ قسم ہوگی، جس کی کفارہ دینا ضروری ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔