حدیث: مسلمان کو کافر کے بدلے نہیں مارا جائے گا

سوال
حدیث: «لا يقتل المسلم بالكافر ولا ذو عهد بعهده» سادات احناف نے اس کو کس طرح سمجھا؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یعنی مسلمان کو غیر مسلم مستأمن نہیں مارا جائے گا، اور ذمی کو بھی مستأمن نہیں مارا جائے گا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں