سوال
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث: ((روزہ دار کے پاس نصف دن تک اختیار ہے)) صحیح ہے؟
جواب
الحديث في سنن البيهقي الكبير 4: 277، ومصنف ابن أبي شيبة 2: 289، ومصنف عبد الرزاق 4: 274، وفي فيض القدير 4: 231: من حديث عون بن عمارة عن حميد عن أنس قال البيهقي: وعون ضعيف، وعن جعفر بن الزبير عن القاسم عن أبي أمامة قال الذهبي: وجعفر متروك رواه أيضاً عن إبراهيم بن مزاحم عن سريع بن نبهان عن أبي ذر قال الذهبي: وإبراهيم وسريع مجهولان. وقال الزيلعي في التبيين 1: 238-239 : ((یہ صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ اس کی راہ میں جعفر بن الزبیر ہے جو متروک ہے، اور اگر یہ صحیح بھی ہو تو اس کا مقصد اس میں شروع کرنے کا وقت بیان کرنا ہے؛ کیونکہ یہ دوپہر کے نصف کے بعد جائز نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نفلی روزہ رکھنا چاہتا ہے، اس کے پاس دوپہر کے نصف تک اختیار ہے کہ چاہے اس میں شروع کرے اور چاہے نہ کرے، جیسے کہا جاتا ہے: جو سلطان کے پاس داخل ہو تو اسے تیاری کرنی چاہیے: یعنی جو اس کے پاس داخل ہونا چاہتا ہے)) .