حدیث کا معنی (تین لوگ جن کے میں دشمن ہوں...)

سوال
حدیث: تین لوگ جن کے میں قیامت کے دن دشمن ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تین لوگ جن کے میں قیامت کے دن دشمن ہوں: ایک شخص جس نے بیع کی اور پھر دھوکہ دیا، ایک شخص جس نے آزاد شخص کو بیچا اور اس کی قیمت کھا لی، اور ایک شخص جس نے مزدور کو کرائے پر لیا اور اس سے کام لے لیا مگر اسے اس کا اجرت نہیں دیا، اس حدیث کا کیا معنی ہے براہ کرم اچھی طرح وضاحت کریں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس کا مطلب ہے کہ وہ واپس آیا جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد کیا تھا، اس نے اپنے عہد میں خیانت کی، اور دوسرا: ایک آدمی ہے جو آزاد لوگوں کو بیچتا ہے، اور تیسرا: ایک آدمی ہے جس نے اپنے علم کے مطابق کام کرنے کے بعد مزدور کو اجرت نہیں دی، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں