نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
کیا یہ قاعدہ صحیح ہے: جس میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہو، اس میں قسم بھی کھائی جا سکتی ہے (جیسے جنگ، صلح اور میاں بیوی کے درمیان)؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: قسم کھانا جائز ہے جہاں جھوٹ بولنا جائز ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔