جنابت کے لیے تیمم کرنے کی صورت میں پانی کی کمی

سوال
کلام کی زبدہ ص (190) میں تیمم کی صحت کی شرائط میں یہ ہے کہ پاکیزگی کے لیے کافی پانی نہ ہونا، یہاں تک کہ اگر جنبی کے پاس وضو کے لیے کافی پانی ہو لیکن غسل کے لیے کافی نہ ہو تو اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے اور اس پر ابتدائی طور پر وضو کرنا واجب نہیں ہے، جبکہ اگر جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو کا موجب ہو تو اس پر وضو اور تیمم دونوں کرنا واجب ہے؟ دونوں صورتوں میں کیا فرق ہے؟
جواب

میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: پہلی تصویر میں جنابت کا مسئلہ ہے، اس لیے تیمم کافی ہے بغیر وضو کے، اور دوسری صورت میں جنابت کے ساتھ ایک چھوٹا حدث بھی ہے، تو اس کے لیے وضو چھوٹے حدث کے لیے اور تیمم جنابت کے لیے ہوگا، اور اللہ بہتر جانتا ہے.

imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں