سوال
ایک عورت جس نے اپنے شوہر کے ساتھ فجر کی نماز کے بعد جماع کیا، اور ظہر کی اذان کا وقت آیا لیکن اس نے غسل نہیں کیا، اور اذان کے دوران اس پر حیض کا خون آ گیا، کیا اس پر جنابت کا غسل واجب ہے؟ اور حیض سے پاک ہونے کے بعد کیا اس پر ظہر کی نماز قضا کرنی ہوگی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: حیض کے ساتھ جماع کرنے کی صورت میں غسل کرنا ضروری نہیں جب تک کہ حیض ختم نہ ہو جائے، اور حیض کی وجہ سے اس نماز کا وقت پر قضا کرنا واجب نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔