سوال
ایک بہن کے لیے اخلاق اور دین والا شخص پیش قدمی کرتا ہے، مگر اسے اس میں وہ صفات نہیں ملتیں جن کی وہ اللہ سے دعا کرتی تھی، تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ کیا اسے اپنی دعا کا جواب آنے کا انتظار کرنا چاہیے؟ یا اسے قبول کر لینا چاہیے جبکہ وہ یقین رکھتی ہو کہ اللہ نے اس کی دعا قبول کی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس کو ابتدا میں استخارہ کرنا چاہیے، اور یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی انسان ویسا ہو جیسا ہم چاہتے ہیں، اگر وہ اہل فضل میں سے ہے تو یہ ایک بڑی نعمت ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.