جس نے دل سے حج کا ارادہ کیا اور عمرہ اور حج کے لیے لبیک کہا

سوال
جس نے دل سے حج کا ارادہ کیا اور عمرہ اور حج کے لیے لبیک کہا، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
عبرت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ انسان نے اپنے دل میں کیا نیت کی ہے، نہ کہ اس بات پر کہ اس نے اپنی زبان سے کیا کہا۔ لہذا، وہ ایک حرام چیز کے طور پر شمار ہوگا؛ کیونکہ اس کی زبان سے وہ بات نکلی جو اس کے دل میں نہیں تھی۔ اصول یہ ہے کہ اعتبار اس بات پر ہے کہ انسان نے کیا نیت کی، نہ کہ جو کچھ اس کی زبان سے نکلا۔ دیکھیں: لباب المناسك ص113.
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں