سوال
ایک جائیداد کرایہ پر لی گئی ہے تاکہ ایک کیفے کھولا جا سکے، جس میں کافی پیش کی جائے گی، پھر یہ شیشہ پیش کرنے لگا، کیا کرایہ دینے والا گناہگار ہوگا اور کیا اس وجہ سے کرایے کا معاہدہ ختم کرنا جائز ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: گناہ کرایہ دار پر ہے نہ کہ مالک پر؛ کیونکہ گناہ اس کے عمل کی وجہ سے ہوا، اور یہ کرایہ ختم کرنے کا عذر نہیں ہے، تو یہ صرف کرایہ دار کی رضا سے ختم ہوگا، اور اللہ بہتر جانتا ہے.