تیمم کے لئے کیا چیزیں جائز ہیں

سوال
تیمم کے بارے میں آپ نے ایک ضابطہ ذکر کیا ہے کہ جس چیز سے تیمم کیا جائے وہ نہ جلنی چاہئے اور نہ نرم ہونی چاہئے، اور آپ نے اس کی مثال درختوں اور دھاتوں کے حوالے دی ہے، لیکن پتھر اور چٹانیں بھی جل سکتی ہیں اور نرم ہو سکتی ہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ آتش فشانی لاوا زیادہ درجہ حرارت پر آ کر نرم ہو جاتا ہے، اور اگر درجہ حرارت زیادہ ہو تو اس سے تیل بھی نکلتا ہے، جو آتش فشانی لاوا کی طرح نرم ہو جاتا ہے، تو کیا آپ مزید وضاحت کر سکتے ہیں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: مقصد یہ ہے کہ آگ کے ذریعے جلنا معمولی ہے، اور جلنے کا مطلب یہ ہے کہ راکھ میں تبدیل ہو جائے، اس لیے پتھروں سے تیمم کرنا جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں