سوال
ایک استاد ہیں، جنہیں ان کے طلباء کی طرف سے سالگرہ کے موقع پر ایک تحفہ دیا گیا، اور انہوں نے تحفہ لے لیا لیکن اپنی طلباء کو تحفہ واپس نہیں کرنا چاہا، اس صورت حال میں تحفہ لینے کے بعد مناسب رویہ کیا ہونا چاہیے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اسے تحفے کے طور پر لینا جائز ہے؛ کیونکہ یہ رشوت نہیں ہے بلکہ طلبہ اور استاد کے درمیان محبت بڑھانے کے لئے ہے، اور بہتر یہ ہے کہ وہ مٹھائیاں اور اس جیسی چیزیں لے کر آئے اور انہیں اپنے تحفے کی قیمت میں طلبہ میں تقسیم کرے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔