سوال
ایک آدمی کے پاس ایک رقم ہے جس سے وہ گاڑیاں خرید کر بیچتا ہے، اور کبھی کبھار اس کو منافع نہیں ہوتا اور کبھی نقصان ہوتا ہے، اس نے اس میدان میں ایک سال اور چھ ماہ گزارے ہیں، اور اس کے کام سے زیادہ منافع نہیں ہوا، کیا اس پر زکات ہے، اور کیا اس کو سرمایہ پر بھی زکات دینی ہوگی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر اس کے پاس تجارت کے لیے موجود مال زکات کے نصاب، جو کہ 100 گرام سونا ہے، سے زیادہ ہے، تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس کی زکات دے چاہے نفع ہو یا نقصان؛ کیونکہ زکات اسی مال پر واجب ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔