نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
کیا واقعی جیسا کہ ہم نے سنا ہے کہ تجارتی سامان پر زکات نہیں ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ قول شاذ ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں، اور ہمیں فقہی مذاہب اور ان کے اصحاب کے فتاویٰ پر عمل کرنا چاہیے، اور غیر سنی فقہی مذاہب سے فتویٰ لینا جائز نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.