بیٹے کے مال سے ولی کی طرف سے صدقہ دینا

سوال
ایک بیوہ ہے جس کے سات بچے ہیں، سب سے بڑے کی عمر بیس سال ہے اور سب سے چھوٹے کی عمر تین سال ہے، اور اس کی مالی حالت بہت اچھی ہے، وہ اپنے بچوں اور اپنے مال سے بہت زیادہ صدقہ دیتی ہے، کیا اس کا یہ عمل صحیح ہے یا وہ غلط کر رہی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی دولت سے جیسا چاہے صدقہ دے، اور اس کے لیے اپنے چھوٹے بچوں کے مال سے صدقہ دینا درست نہیں ہے، جبکہ بڑے بچوں کے مال سے ان کی اجازت کے بعد صدقہ دینا جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں