سوال
ایک کرایے کے دکانوں کا مالک ہے، ایک تجارتی بینک چاہتا ہے کہ وہ اس سے کرایہ پر لے؛ تاکہ اس علاقے میں اپنی شاخ قائم کرے، کیا یہ اس کے لیے حرام مال میں مشتبہ ہے یا کیا اسے کرایہ پر دینا جائز ہے؟ اگر یہ جائز ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ یا کیا اس پر فقہی قاعدہ 'فعل فاعل مختار' لاگو ہوتا ہے جو اس کے اور غلطی کرنے والے کے درمیان ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ابو حنیفہ کے قول کے مطابق اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اسے کرائے پر دے دے کیونکہ اس کے اور معصیت کے درمیان ایک مختار فعل کا تخلل ہے، اور دوسرے کے قول کے مطابق یہ ناپسندیدہ ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔