سوال
ایک شخص نے یونیورسٹی سے قرض لیا اور اس کے پاس بینک میں (20) ہزار روپے باقی ہیں، کیا اس پر زکات واجب ہے، حالانکہ وہ ان کا استعمال نہیں کر رہا، اور اس نے ابھی تک یونیورسٹی کا قرض واپس نہیں کیا، اور اگر وہ ان کا استعمال نہیں کرے گا تو ہر سال زکات میں کمی آئے گی، اور کیا اگر اس نے اس مال یا اس کے کسی حصے کو کسی منصوبے میں استعمال کیا تو کیا اس پر بھی زکات واجب ہوگی؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس مال پر زکات واجب نہیں ہے؛ کیونکہ اس کے مقابلے میں اس پر اسی قدر قرض ہے، اور اگر یہ کسی منصوبے میں استعمال ہو تو بھی اس پر زکات نہیں ہے کیونکہ قرض کی وجہ سے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔