سوال
اسلامی بینک میں ایک معاہدہ ہے جسے «اقرأ» کہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یونیورسٹی کا طالب علم بینک میں اپنی داخلہ فیس اور یونیورسٹی کے گھنٹوں کی مقدار لے کر آتا ہے، پھر یونیورسٹی ان خدمات کو خریدتی ہے اور یہ رقم ادا کرتی ہے، پھر یہ طلباء کو بیچتی ہے، اور حقیقت میں مجھے معاہدے کی تفصیلات نہیں معلوم، صرف میں نے عمومی طور پر جو ذکر کیا ہے، آپ کی رائے کیا ہے، براہ کرم؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ خیال خود میں شرعاً صحیح ہے، لیکن ہم اس کا صحیح اطلاق چاہتے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔