سوال
میری ایک بہن ہے جس کا شوہر ایک سیاحت کی کمپنی میں کام کرتا ہے، اور کورونا کے بحران کے بعد سے اسے تنخواہ نہیں مل رہی کیونکہ یہ کمپنیاں کام نہیں کر رہی ہیں، اور اب وہ موبائل کارڈز کی تقسیم میں کام کر رہا ہے، اور اس پر اپارٹمنٹ کے اقساط اور اسکولوں کے اقساط ہیں، اور میری بہن نے اس سال کے آغاز میں ایک استاد کی حیثیت سے ملازمت حاصل کی ہے اور اس کی تنخواہ ۳۵۰ دینار ہے، کیا میں اسے اپنی زکات دے سکتا ہوں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: بہن کو مال کی زکات دینا جائز ہے، اور آپ کو دو اجر ملیں گے، ایک زکات کا اجر اور دوسرا رشتہ داری کا اجر، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔